ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار: امداد کی تقسیم کو لے کر ارکان اسمبلی کے درمیان ’فنڈ فائٹ‘: افسران کی موجودگی میں روپالی نائک اور دنیکرشٹی لڑ پڑے

کاروار: امداد کی تقسیم کو لے کر ارکان اسمبلی کے درمیان ’فنڈ فائٹ‘: افسران کی موجودگی میں روپالی نائک اور دنیکرشٹی لڑ پڑے

Sat, 12 Feb 2022 19:43:19    S.O. News Service

کاروار 13؍ فروری(ایس اؤ نیوز) ریاست میں برسراقتدار بی جے پی کے دو ارکان اسمبلی  کے درمیان کے ڈی پی میٹنگ میں امداد کے متعلق آپسی جھڑپ شروع ہوگئی۔ جس کو دیکھ کر میٹنگ میں موجود دو  وزراء سمیت افسران بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ 

کاروار میں جب کے ڈی پی میٹنگ شروع ہوئی تو سیلاب زدگان کے لئے منظورکردہ امداد کی تقسیم کو لےکر کاروار کی رکن اسمبلی روپالی نائک اور کمٹہ کے رکن اسمبلی دنیکر شٹی کے درمیان لفظی جھڑپ شروع ہوگئی۔ اور آپسی جھگڑے کودیکھتے ہوئے وزیر شیورام ہیبار کو مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو خاموش کرانا پڑا۔ اس موقع پر ضلع نگراں کاروزیر کوٹاشری نواس پجاری نےرکن اسمبلی روپالی نائک سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ آپ دوسرے حلقہ کے متعلق آپ فکر مند کیوں ہو، آپ کو زائد امداد چاہئے تو ہم سرکار کی طرف سے زائد امداد دلوادیں گے۔

آخرہوا کیا تھا؟:جائزہ میٹنگ میں گذشتہ سال سیلاب سے ہونےو الے نقصانات کا معاوضہ دینے کے متعلق بحث ہونےلگی تو کاروار ، انکولہ کی رکن اسمبلی روپالی نائک نے اعتراض جتاتے ہوئے کہاکہ منظورشدہ 100کروڑ روپیوں میں کاروار حلقہ کےلئے صرف 5کروڑ روپئے دئیے گئے ہیں، لیکن کمٹہ حلقہ کے لئے زیادہ رقم دی گئی ہے، اس نے پوچھا کہ میں اپنے حلقہ کے لوگوں کے سامنے کیامنہ لے کر جاؤں گی۔ اس نے کہا کہ اس تعلق سے انہوں نے ڈی سی سے بھی اپیل کی تھی۔ روپالی نائک کی بات پر کمٹہ کے رکن اسمبلی دنیکر شٹی طیش میں آ گئے اور سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہاکہ آپ کو اپنے حلقہ کے متعلق بات کرنی چاہیئے، انہوں نے کہا کہ تم تمہارے حلقہ کا دیکھو ، میرے حلقہ کے متعلق بات مت کرو۔

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ان دونوں ارکان اسمبلی کی جھڑپ وزیر شیورام ہیبار اور کوٹاشری نواس پجاری کے سامنے ہی چلتی رہی ۔روپالی کا کہنا تھا کہ سیلاب معاوضہ میں بھی کمٹہ حلقہ کے لئے زیادہ اور کاروار حلقہ کے لئےکم امداد دی گئی ہے۔ اسی طرح توکتے طوفان سے ہوئے نقصانات کی بھرپائی کے لئے بھی کمٹہ کو زیادہ امداد دی گئی ہے۔ روپالی نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے کاروار حلقہ میں بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، ندی پار کرکے جانہیں سکتے، ان کی بات پر کمٹہ رکن اسمبلی دنیکر شٹی طیش میں آگئے اور کہا کہ آپ ایک عورت ہو، اپ کو اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہئے، اپ اپنے حلقہ کے متعلق بات کریں، اپ کو میرے حلقہ کے متعلق بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ہر روز دودوکروڑ رپیوں کی امداد لے کر آتی ہو تو کیا ہم  نے کبھی اعتراض جتایاہے ؟ اس مرتبہ دونوں کے درمیان آپسی جھڑپ کچھ زیادہ ہی چلی، تو وزیر شیورام ہیبار اور کوٹا شری نواس پجاری نے دونوں کو مطمئن کرنےکی کوشش کی۔ اس درمیان  شیورام ہیبار کچھ دیر کے لئے گرم بھی ہوئے اور کہاکہ دیکھو تم حکومت کے نمائندےہو، میٹنگ میں امداد پر بحث نہ کریں، یہاں افسران بھی ہیں اور میڈیا کے لوگ بھی ہیں، امداد کے متعلق بات کرنے کے لئے آئی بی ہے، وہاں جا کر بات کرسکتے ہیں روپالی نائک نے وضاحت کرتےہوئےکہاکہ میں جھگڑا نہیں کررہی ہوں، سیلاب معاوضہ کے طورپر 100کروڑ روپئے منظور ہوئے تھے ، لیکن میرے حلقہ کو صرف 5کروڑ روپئے دئیے گئے ہیں، ایسے میں مجھے  عوام کو جواب دینا ہے، ان کو میں کیا جواب دوں گی؟ یہ میٹنگ ہے اور میں میٹنگ میں پوچھ رہی ہوں۔ عوام کو کیسے منہ دکھاؤں ، امداد زائد کرنے کے لئے ڈی سی سے بھی اپیل کی تھی ۔ ارکان اسمبلی کے تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے بالاخر  وزیر کوٹا شری نواس پجاری کو مداخلت کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ وہ محکمہ روینیو اور وزیراعلیٰ سے گفتگو کرکے کاروار کے لئے زیادہ امداد منظور کرانے کی کوشش کریں گے۔

سرد جنگ بہت پہلے سے :ضلع میں برسراقتدار بی جے پی کے تین ارکان اسمبلی ، ایک وزیر اور ایک اسپیکرہے ۔ ساحلی پٹی کے تین ارکان اسمبلی کے درمیان معاوضہ کو لےکر بہت پہلے سے سرد جنگ جاری ہے۔ جمعہ کومنعقدہ کے ڈی پی میٹنگ میں جو کچھ دیکھاگیا وہ نیا نہیں ہے۔ سرکار سے امداد لانےمیں تینوں ارکان اسمبلی کے درمیان مقابلہ آرائی ہے۔ اس طرح اگرایک رکن اسمبلی اپنے حلقہ کے لئے زیادہ امداد لاتے ہیں تو دوسرے ارکان اسمبلی کی آنکھیں لال ہوجاتی ہیں۔ برسراقتدار بی جے پی کے تینوں ارکان اسمبلی کی یہی کہانی ہے۔


Share: